انیس سو اکہتر میں ایک امیرکن ایئرلائن کے جہاز کو ابھی ٹیک آف کیے چند منٹ ہی گزرے تھے۔
کہ سب سے پیچھے والی سیٹ پر بیٹھے پیسنجر نے ایئر ہوسٹس کو اپنے پاس بلایا اور ہنستے ہوئے اس کو ایک چٹھی تھما دی۔
اس چٹھی میں صرف چند الفاظ لکھے ہوئے تھے جس نے پورے امریکہ میں ہلچل مچا کر رکھ دی۔
وہ پیسنجر کون تھا اور ایف بی آئی آج تک کیوں نہیں ذندہ یا مردہ ڈھونڈ پائی۔
ڈھونڈنا تو دور کی بات امریکہ کی سب سے پاور فل
انٹلیجنس ایجنسی اس کی پچھلے پچاس سالوں سے اس کی زرہ بھر بھی انفارمیشن نہیں نکال سکے۔
دوستو اس انٹرسٹنگ واقعہ کی شروعات چوبیس نومبر انیس سو اکہتر کو پورٹ لینڈ ایئرپورٹ سے ہوئی تھی۔
ایک شخص جو بظاہر تو ایک بزنس مین لگتا تھا اس نے پورٹ لینڈ سے سیاٹل کا ٹکٹ بک کروایا تھا۔
اور سیدھا جہاز کی طرف بڑھنے لگا تب امریکہ میں ڈومیسٹک فلائٹس پر کسی بھی قسم کی سختی نہیں ہوا کرتی تھی۔
اور نا ہی پیسنجر کا سامان چیک کیا جاتا تھا اور نا ہی ان کی ایڈنڈٹی ویری فکیشن کی جاتی تھی۔
یہ نارتھ ویسٹ اورینٹ ایئر لائن کا جہاز بوئنگ سات سو ستائیس تھا جس کو صرف پنتالیس منٹوں میں پورٹ لینڈ سے سیاٹل تک پہنچنا تھا۔
سن گلاسز لگائے ایک بریف کیس کے ساتھ ڈین کوپر نامی شخص اس جہاز میں سوار ہوا اور اپنی پسند کی سیٹ پر جا بیٹھ گیا جو جہاز کی کی سب سے آخری سیٹ تھی۔
اس نے اپنے لیے ایک ڈرنک آرڈر کی اور ساتھ ہی ایک سیگریٹ بھی جلا لی یہاں تک سب نارمل چل رہا تھا۔
تب جہاز میں سموکنگ کرنے کی بھی اجازت تھی۔
ٹھیک دو بج کر اٹھاون منٹ پی ایم پر فلائٹ ٹیک آف ہو گئی تھی۔
ڈائن کوپر پیچھے مڑا پاس میں بیٹھی ایرہوسٹ کو ہنستے ہوئے ایک لفافہ (انویلو) تھما دیا۔
ایرہوسٹس جس کا نام فلارینس شافنر تھا اس نے جب وہ چٹھی پڑھی تو جیسے اس کے پیروں تلے زمین ہی نکل گئی ہو۔
اس میں یہ لکھا تھا
Miss i have a bomb
Her and I would like you to sit by me.
جس کا مطلب ہے کہ میرے پاس بمب ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے پاس آ کر بیٹھ جائیں۔
فلارینس شافنر جب ڈین کوپر کے پاس آ کر بیٹھی تو اس نے اپنا بریف کیس کھولا جس میں ڈائنامائٹ کی آٹھ سٹکس اور ایک ڈیٹونیٹر بھی موجود تھا۔
انشارٹ جہاز ہائی جیک ہوچکا تھا اور ڈین کوپر کی ٹوٹل تین ڈیمانڈز تھیں۔
اس کو پانچ بجے سے پہلے پہلے بیس لاکھ ڈالر کیش اور دو پیرا شوٹ کے پئیر اور سیاٹل ایئرپورٹ پر ایک ری فیولر ٹرک تیار چاہیے تھا۔
اپنی ڈیمانڈ کے آخر میں اس نے فلارینس شافنر کو انڈاریکٹلی یہ بھی بولا کہ اگر کوئی غلطی ہوئی تو میں بمب کو بلاسٹ کر دوں گا۔
ڈین کوپر کے علاواہ اس جہاز میں پینتیس پیسنجر اور بھی تھے جن کو جہاز میں پیچھے ہونے والے واقعے کا کچھ بھی علم نہیں تھا۔
فلارینس شافنر ڈین کوپر کی ڈیمانڈز لے کر کوپٹ میں گئی اور پائلٹ کو سارا ماجرا سنا دیا۔
ایک دوسری ایرہوسٹس جس کا نام ٹینا مکلو تھا وہ اب ایک انٹرکام لے کر ڈین کوپر ساتھ آ کر بیٹھ گئی۔
جو پائلٹ اور ڈین کوپر کے درمیان میسج پہنچانے کا کام کر رہی تھی۔
یاد رہے کہ یہ امریکہ میں جہاز ہائی جیک ہونے والا پہلا واقع تھا جو رینسم کے لیے کیا گیا تھا اس کی وجہ سے ایف بی آئی اور لوکل اتھارٹی نے فیصلہ کیا کہ ہائی جیکر کی ساری ڈیمانڈز کو پورا کیا جائے۔
ظاہر ہے کہ اتھارٹی کو بھی معلوم تھا ڈین کوپر ان سے بھاگ کر زیادہ دور نہیں جا پائے گا۔
فلائٹ جس کو صرف پنتالیس منٹ میں سیاٹل ایئرپورٹ پر پہنچنا تھا وہ اگلے ڈیڑھ گھنٹے تک آسمان میں گردش کرتی رہی
اور بقایا پینتیس پیسنجر اس واقع سے بلکل بے خبر تھے ان کو بتایا گیا تھا
کہ ٹیکنیکل ڈیفیکلٹی سے جہاز کی لینڈنگ میں دشواری ہو رہی ہے۔
اس دوران سیاٹل نیشنل بینک سے بیس ڈالر کے دس ہزار نوٹ اکھٹے کیے گئے جن کے سیریل نمبر نوٹ کر لیے گئے تھے۔
اور ایک قریبی سکائے ڈائیونگ کلب سے دو پیراشوٹ کی جوڑیاں بھی ارینج کی گئی۔
شام کے پانچ بج کر پنتالیس منٹ پر جہاز کو لینڈ کروایا گیا اور وعدے کے مطابق ڈین کوپر پیسوں سے بھرا بیگ اور دو عدد پیرا شوٹ فراہم کیے گئے اور جہاز کو ری فیول کر دیا گیا۔
اپنی مانگیں پوری کروانے کے بعد ڈین کوپر نے پینتیس پیسنجر اور دو کرو میمبر کو اترنے کی اجازت دے دی۔
جب کہ پائلٹ اور دو کرو میمبر کو جہاز میں ہی رہنے کا کہا گیا اس وقت رات ہو چکی تھی جہاز ایک بار پھر ٹیک آف کر گیا۔
ڈین کوپر نے اپنے ساتھ بیٹھی ٹینا مکلو کے ذریعے پائلٹ کو کچھ خاص ہدایات دی وہ چاہتا تھا کہ جہاز کے لینڈنگ گئیر اور فیلیپس کھلے رہیں۔
اونچائی دس ہزار فٹ ہو اور سپیڈ تین سو بیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہو۔
اور جہاز کو سیدھا میکسیکو کی طرف لے جایا جائے۔
پائلٹ نے باقی کی ساری ڈیمانڈز کو پورا کیا لیکن اس جہاز کو میکسیکو لے جانا پوسیبل نہیں تھا کیونکہ اس جہاز میں اتنا فیول نہیں تھا جس سے وہ میکسیکو سٹی پہنچ جائے گا۔
لہذا پائیلٹ نے ڈین کوپر کو دو آپشنز دیے جہاز کو ری فیول کروانے کے رینو یا پھر پھونیکس ڈین کوپر رینو پر راضی ہو گیا۔
دوسری طرف لوکل اور فیڈرل اتھارٹی بھی اپنا کام کر رہی تھی دو فائٹر جیٹس کو پیچھے روانہ کیا گیا لیکن وہ اتنی سلو سپیڈ مینٹین نہیں کر پائے جتنی سپیڈ سے جہاز جا رہا تھا۔
اسی وجہ انہوں نے جہاز کے گرد چکر لگانا شروع کر دیا رات کے اندھیرے میں جہاز رینو کی طرف رواں دواں تھا اتنے میں ڈین کوپر نے پاس بیٹھی ٹینا مکلو کو کوپٹ میں جانے کا کہا جہاں دو پائلٹ اور ایک فلائٹ اٹینڈنٹ موجود تھی۔
جب ٹینا کوپٹ کا دروازہ بند کرنے کو پلٹی تو اس نے بس اتنا دیکھا کہ ڈین کوپر اپنی کمر پر کچھ باندھ رہا تھا۔
اس کے بعد جہاز کی سیڑھیاں کھلی اور ڈین کوپر نے وہاں سے چھلانگ لگا دی یاد رہے کہ اس وقت کے جہازوں میں پیچھے کی طرف سے نیچے کی جانب بھی دروازا ہوتا تھا ڈین کوپر وہاں سے کودا۔
اس کے بعد جو کچھ بھی ہوا پچھلے پچاس سالوں سے آج تک ڈسکس کیا جا رہا ہے۔
تین گھنٹوں کے بعد جب جہاز رینو میں لینڈ ہوا تو پورے جہاز کو اچھی طرح چیک کیا گیا۔
لیکن جہاز میں نا ہی ڈین کوپر تھا اور نا بمب تھا نہ صرف جہاز میں بلکہ ڈین کوپر کا کہیں بھی اتا پتہ نہ چل سکانہ ہی زندہ اور نہ ہی مردہ۔
آخر کار ڈین کوپر کون تھا اور پورے امریکہ کی آنکھوں کو دھوکا دے کر وہ کہاں چلا گیا۔
یہ کیس فیڈرل بیورو کا ایسا کیس ہے جسے آج تک حل نہیں کیا گیا۔
ڈین کوپر کو پلین سے جمپ کرتے تو کسی نے نہیں دیکھا تھا لیکن یہ بات کلیر تھی اس نے سیاٹل اور رینو کے درمیان میں کہیں چھلانگ لگائی تھی۔
ایف بی آئی نے جہاز پر ثبوت تلاش کرنا شروع کر دیے لیکن بد قسمتی سے جہاز میں صرف ڈین کوپر کی صرف ٹائی اور آٹھ سیگریٹ جلی ہوئی اور ایک پیرا شوٹ ملا جو ڈین کوپر پیچھے چھوڑ گیاتھا۔
حتیٰ کہ کسی کے پاس اس کی کوئی فوٹو تک موجود نہیں تھی پیسنجر اور سٹاف سے انٹرویو لینے کے بعد اس کا سکیچ بنوایا گیا۔
اس سے پہلے ڈین کوپر کو سیاٹل اور رینو کے درمیان تلاش کیا جاتا ایف بی آئی کو یہ جاننا تھا کہ اس نے ایگزیٹلی کون سی جگہ پر چھلانگ لگائی تھی۔
یہ جاننا زیادہ مشکل نہیں تھا کیونکہ جہاز آٹو پائلٹ موڈ پر تھا یعنی جس پاتھ پر جہاز فلائنگ کر رہا تھا وہ پہلے ہی ریکارڈ تھا۔
جہاز کی سپیڈ اور ایلٹیوڈ پہلے سے ہی معلوم تھا اور ساتھ ساتھ جہاز ریکوڈر سے پتہ چلا کہ جہاز کا سٹیر کیس رات کے آٹھ بج کر دس منٹ پر کھلا تھا۔
ان تمام ثبوتوں کی بنیاد پر ایک سرچ ایریا سلیکٹ کیا گیا۔
یہ پنتالیس سکوائر کلومیٹر کا ایریا جنگلات اور پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے۔
ائریل ٹیم اور سرچ ٹیم نے اس ایریا کا چپہ چپہ چھان مارا نہ ڈین کوپر ملا نہ ہی بریف کیس ملا اس ایریا میں اتنی شدید سردی تھی کہ سب کو لگا کہ ڈین کوپر ٹھنڈ کی وجہ سے وہ مر گیا ہوگا۔
لیکن اس کے بعد جو ہوا وہ ایف بی آئی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا ۔
امیرکن ایف بی آئی کے ساتھ یہ پہلی دفعہ ہوا تھا کہ ایف بی آئی کو عام پبلک سے اس کیس کے حوالے سے مدد لینا پڑھ گئی تھی۔
ڈین کوپر کا سکیچ اور دو لاکھ ڈالر کی سیریل بھی اخباروں میں دی گئی، اور یہ بھی کہا گیا کہ ڈین کوپر کے بارے میں کوئی بھی انفارمیشن دیتا ہے تو اس کو انعام دیا جائے گا۔
ان کا ارادہ تھا کہ ڈین کوپر ان پیسوں کو کہیں نا کہیں ضرور خرچ کرے گا۔
حیرت انگیز واقعہ یہ کہ اس سیریل کا نوٹ کہیں بھی دوبارا نہیں دیکھا گیا۔
لیکن معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا (9) سال بعد ایک واقعہ ہوا یعنی ایک انیس سو اسی میں سترنگ کولمبیا دریا کے کنارے ایک بیچ ہے جس کو ٹینا بار کہا جاتا ہے یہاں ایک بچہ اپنے والدین کے ساتھ کھیل رہا تھا اس کو تین نوٹوں کی گٹھیاں ملی جو پانچ ہزار آٹھ سو ڈالر بنتے تھے بچے کے والدین ان نوٹوں کو لے کر ایف بی آئی کے پاس گے ان نوٹوں کے سیریل نمبر نمبر ان نوٹوں کے سیریل نمبر کے ساتھ میچ کر گے جو ڈین کوپر لے گیا تھا۔
نوٹوں کے ملنے سے واقعے کو مزید الجھا کر رکھ دیا یہ پیسے ڈروپ لوکیشن سے تقریباً ستائیس کلومیٹر دور تھے وہاں سے اس بچے کو ملے تھے۔
اس کیس کو لے کر ایف بی آئی نے ڈین کوپر جیسے دکھنے والوں کی انویسٹیگیشن بھی کی لیکن کچھ نہ ملا۔
کئی تھیوری یہ بھی کہتی ہیں کہ ڈین کوپر شاید ایک ٹرین ملٹری کمانڈو تھا۔
کیونکہ جو پیراشوٹ لے کر ڈین کوپر کودا تھا وہ ایک ملٹری پیرا شوٹ تھا اور اس کو آپریٹ کرنا اس پیراشوٹ سے زیادہ مشکل تھا جو ڈین کوپر جہاز میں چھوڑ گیا تھا۔
انیس سو اسی میں پانچ ہزار آٹھ سو ڈالر کے علاواہ (9710) نوٹس تھے جن کا آج تک پتہ نہیں چل سکا۔
ایویڈنس کے طور پر ایف بی آئی کے پاس اس سکیچ کے علاواہ صرف ایک ٹکٹ ہے جس میں اس نے خود اپنا نام لکھا تھا اور ایک ٹائی جس پر کلپ لیفٹ سائیڈ پر لگی تھی جس سے ثابت یہ ہے کہ ڈین کوپر لیفٹ ہینڈڈ تھا۔
اس کیس نے ایف بی آئی کو پچھلے پچاس سالوں سے الجھا کر رکھا ہے آج بھی ان کی ویب سائٹ پر تمام ڈیٹیل موجود ہے اور اس کیس کی فائل بھی آج تک کھلی ہوئی ہے۔
امید ہے کہ آپ کو ڈین کوپر کی یہ سٹوری انٹرسٹنگ لگی ہوگی اگر اچھی لگی ہے تو اس کو آگے شیئر کر دیں۔
شکریہ